3 جنوری 2013 - 20:30

اسکردو میں چہلم شہداء کربلا کے موقع پر دستہ امامیہ بھی برآمد ہوا جو ایک ایک احتجاجی ریلی میں تبدیل ہوا اور شرکاء نے اس ماتمی و احتجاجی جلوس میں وقفے وقفے سے علامہ نیئر عباس مصطفوی کی گرفتاری اور شہید ضیاء الدین کے قاتلوں کی فرار کے خلاف نیز حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔

 اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے ویب سورسز کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بلتستان کے صدر مقام اسکردو میں اربعین سیدالشہداء علیہ السلام کے موقع پر دستہ امامیہ کا ماتمی و احتجاجی جلوس برآمد ہوا جو حسینی چوک اسکردو پہنچا تو ہزاروں عزاداروں نے نے علامتی احتجاجی دھرنا دیا۔دستہ امامیہ کا یہ جلوس جو درحقیقت ماتمی و احتجاجی جلوس تھا جس میں اکثریت طالب علموں کی تھی، اس کا باقاعدہ آغاز امامیہ جامع مسجد اسکردو سے مرثیہ خوانی کے ساتھ ہوا۔ مرثیہ پڑھنے کی سعادت معروف مرثیہ خوان اخوند عمران نے حاصل کی اور مرثیہ خوانی کے بعد ننھے منقبت خواں شیراز حسن نے استغاثۂ بحضور امام زمان عجل اللہ فَرَجَہُ الشَّریف پڑھنے کی سعادت حاصل کی جس سے جلوس میں کہرام برپا ہوا۔دھرنے سے سابق ڈویژنل صدر سید اعجاز حسین موسوی اور معروف اسکالر ڈاکٹر سجاد حسین نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ سانحہ کوہستان، سانحہ چلاس اور سانحہ بابوسر عالمی دہشت گردی کا شاخسانہ ہیں اور ان واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ ہونا نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور اسلام دشمنوں اور پاکستان دشمنوں کے خلاف جب تک بےرحمانہ کارروائی نہیں کی جائے گی پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ علامتی دھرنے کے بعد دستہ امامیہ شبیہ قتل گاہ کی جانب رواں دواں ہوا جہاں زیارت امام حسین (ع) کے بعد یہ جلوس اختتام پذیر ہوا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110